ابتک111/ سرکار ی گواہوں کی گواہیاں مکمل، عدالت کی کارروائی روزبہ روز جاری
ممبئی،2مئی(ایس او نیوز/پریس ریلیز) مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ معاملے میں زخمی گواہوں کی گواہیوں کے اختتام کے بعد اب زخمیوں کے جسم سے چھرے اور ہلاک شدگان کے کپڑے پولس کے ذریعہ اپنے قبضہ میں لیئے جانے کے وقت پنچ کا کردار نبھانے والے سرکاری گواہوں کی گواہیاں خصوصی این آئی اے عدالت میں شروع ہوچکی ہے، آج اس تناظر میں چارگواہوں کی گواہیاں عمل میں آئی جن کے نام شرد چنتامن ہیدگے، انصاری محمد اسلم خلیل احمد، انصاری خلیل احمد سہیل احمداور سلیم احمد عبدالطیف شامل ہیں۔ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت کے جج ونود پڈالکر کے روبرو گواہی دیتے ہوئے انصاری شکیل احمد نے بتایا کہ جس وقت زخمیوں کے جسم سے بم دھماکوں کی وجہ سے لگنے والے چھرے نکالے جارہے تھے وہ فاران اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں موجود تھے اور پولس نے ان چھروں کو اپنے قبضہ میں لیتے وقت جو پنچامہ تیار کیا تھا اور اس اس نے اور ایک دیگر شخص نے پنچ کا کردار ادا کیا تھا۔سرکاری گواہ شکیل احمد نے سرکاری وکیل اویناس رسال کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے خصوصی جج کو بتایا کہ چھروں کو چھ عددد چھوٹی چھوٹی کانچ کی بوتلوں میں رکھا گیا تھا اور بعد میں اسے سیل کردیا گیا تھا نیز سیل کرنے کے بعد لفافوں پر اس کی اور دیگر پنچوں کی دستخط لی گئی تھی اور پنچنامہ تیار کرنے کے بعد اس پر بھی دستخط حاصل کی گئی تھی۔اسی طرح دیگر دو سرکاری گواہوں نے بھی عدالت کو چھروں کی ضبطی کے پنچناموں کے تعلق سے بتایا جبکہ ایک دیگر سرکاری گواہ انصاری محمد اسلم نے عدالت کو بتایا کہ پولس نے اس کی موجودگی میں بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کے کپڑے اپنی تحویل میں لیئے تھے اور اس تعلق سے پنچنامہ بھی تیار کیا تھا جس پر اس نے دستخط کیئے تھے۔سرکاری وکیل اویناس رسال کے یکے بعد دیگر سرکاری گواہوں سے سوالات پوچھنے کے بعد بھگوا ملزمین کے وکلاء نے ان سے جرح کی اور گواہوں پر الزام عائد کیا کہ وہ مراٹھی جانتے نہیں ہیں اور پنچنامے مراٹھی زبانوں میں ہیں لہذا انہوں نے پولس کے دباؤ میں پنچناموں پر دستخط کی نیز آج وہ این آئی اے کے دباؤ میں عدالت میں جھوٹی گواہی دے رہے ہیں جس سے انہوں نے انکارکیا۔دوران کارروائی عدالت میں متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)کی جانب سے ایڈوکیٹ شاہدندیم و دیگر وکلاء موجودتھے۔